Follow on facebook Follow on facebook
  • طاقت آدمی کی نہیں ، سچائی کی ہوتی ہے اور فیصلہ بندے نہیں ، حالات کیا کرتے ہیں۔
  • سیاست میں حربے بھی ہوتے ہیں لیکن آخری تجزیے میں کسی سیاسی گروہ کے مقدر کا انحصار قومی امنگوں سے ہم آہنگی پر ہوتاہے۔
  • سیاست مگر شعبدہ بازی ، ہائو ہو ، زورِ خطابت اور نعرے بازی کا نہیں ، منصوبہ بندی کا نام ہے ۔
  • جذباتی توازن ، دانائی ، ہوش مندی اور بے تعصبی۔ بصیرت اسی کا نام ہے ۔
  • کبھی کوئی قوم دوسری کو جنگ جیت کر نہیں دیا کرتی۔
  • اگر ہم نجات کے آرزومند ہیں تو ہمیں ایک لیڈر تلاش کرنا چاہئیے۔ محمد علی جناح(رح) نہیں تو ان کا کوئی پیرو؟
  • حقیقی ادراک کے لیے وسیع تر تناظر درکار ہوتا ہے ۔اہم ترین پہلوئوں پر نظر ،جذبات سے اوپر اٹھ کر تجزیاتی نگاہ۔
  • سب ریاستیں اپنے ابتدائی زمانوں میں ژولیدہ فکروں کو پالتی اور سہتی ہیں۔
  • کبریائی اللہ کی چادر ہے ۔ جس کسی نے شعار کرنے کی کوشش کی، برباد ہوا ۔فرمان یہ ہے کہ اللہ کی مخلوق اس کا کنبہ ہے ۔ تذلیل پر تلے رہنے والوں کوقرض چکانا پڑتا ہے۔
  • الفاظ کی نہیں ، یہ عمل کی دنیا ہے ۔ آدمی خود کو فریب دے سکتاہے، دوسروں کو نہیں ۔
  • آزادی ایک چیز ہے ، دانائی اور بالغ نظری بالکل دوسری۔ حکمت ، ہوش مندی اور اعتدال اگر کارفرمانہ ہو سکے تو حیات ثمر بار نہیں ہوتی۔
  • ایک قوم کی حیثیت سے ہمارا مزاج یہ بن چکا کہ اپنی خامیوں پر کبھی غورنہیں کرتے اور ناکامی کے اسباب ہمیشہ خارج میں تلاش کرتے ہیں۔
  • سینے میں جب دل نہیں ہوتا تو آنکھ میں حیا کہاں؟
  • ہر قوم کا مزاج الگ ہوتا ہے۔ تاریخ، تمدن، روایات اور معاشرے کی منفرد ساخت۔
  • غلامی خوف کی نظر نہ آنے والی دیواروں کا نام ہے ، اندیشوں کے مارے لوگ جن کے اندر قید رہتے ہیں۔ بھوت پریت اور سائے ،جیسے کہ سویت یونین میں تھے۔
  • گرہ دانائی سے کھلتی ہے ؛اگرچہ بنیاد نیک نیتی پر ہوتی ہے ۔ حسن نیت اگر نہ ہو تو انقلاب فقط ایک نعرہ ، خطابت اور دکھاوا۔
  • انقلاب کے عمل میں سیاسی ، سماجی اور معاشی عوامل ہوتے ہیں۔ لیڈر بعض اوقات بعد میں نمودار ہوتا ہے ۔ خود انقلاب کے عمل میں ۔
  • مذہب کے نام پر مگر معاشرے کو تقسیم نہ ہونا چاہئیے۔ فرقہ واریت کو فروغ نہ ملنا چاہئیے۔ ملّا کی بے سود قیادت نہیں۔غضب ناک اور بے سمت۔
  • ادھوری آزادی اپنی تکمیل کیا کرتی ہے ۔
  • ہر حادثے میں سبق ہوتا ہے اور ہر بحران میں مواقع۔ سبق لیکن بے تعصب غور کرنے والے ہی حاصل کرتے ہیں۔
  • ہیجان کا نتیجہ سرفرازی نہیں بلکہ بربادی ہوتا ہے۔
  • ہر فوجی حکومت کے ساتھ مگر ایک مسئلہ ہوتا ہے۔ جو کچھ بھی وہ بناتی ہے ، برباد ہونے کے لیے۔
  • پاکستانی سیاستدانوں کے لیے نجات کی راہ صرف ایک ہے ۔ قانون کی بالا دستی اور گذشتہ کی تلافی ۔
  • کامیابی ایک گمراہ کر دینے والی چیز ہے۔زعم اور تکبر۔
  • عالمی طاقتیں تیسری دنیا کے بارے میں اپنی افسر شاہی اور میڈیا پر بھروسہ کرتی ہیں اور اکثر منہ کی کھاتی ہیں۔
  • دیانت دار اور فرض شناس پولیس افسروں کا تقرر ہی معاشرے میں امن و امان کی ضمانت ہوتاہے۔
  • زمینوں کا ریکارڈ کمپیوٹر پر ڈالنے کے لیے صرف 180دن درکا رہیں مگر وہی خوں آشام پٹواری کہ صوبائی حکومتیں نہیں مانتیں ۔
  • دانا لوگ نادانی پر اتر آئیں توساری ذہانت ، تعصب اور تکبر میں ڈھل کر انہیں تباہی کی طرف دھکیلنے لگتی ہے ۔
  • سب سے اہم چیز حالات کا دھارا ہوا کرتا ہے۔
  • تکبّر اور طاقت کا نشہ دانائی کو لے جاتاہے اور تعصبات تجزیہ کرنے نہیں دیتے۔
  • فیصلے خوف میں صادر نہیں کئے جاتے اور سپنے متشکل کرنے کے لیے فقط آرزومندی نہیں ،صبر ، ریاضت اور مستقل مزاجی درکار ہے ۔
  • کس قدر احمق ہے وہ قوم جو معاشی تباہی کے عالم میں عسکری اور معاشی ایجنڈے میں اتفاقِ رائے کی اہمیت کا ادراک نہیں رکھتی۔
  • قومی خود مختاری کا دفاع تنہا فوج نہیں کیا کرتی بلکہ پوری قوم ۔ پارلیمنٹ ، کابینہ ، انتظامیہ ، عدلیہ اور میڈیا۔
  • اندرونِ ملک کشیدگی کا خاتمہ تبھی ممکن ہے کہ سیاسی کھیل کے قواعد طے کرنے کے بعد سختی سے اس پر عمل کیا جائے ۔
  • پاکستان دھوپ میں پ ڑا برف کا ٹکڑا نہیں کہ تحلیل ہو جائے ۔ وسیع امکانات کی یہ ایک بڑی معیشت اور قوم ہے ۔
  • سوز ہی حیات ہے ، درد ہی زندگی۔
  • ہاں بے شک ، شکر گزاری ہی ایمان ہے ، شکر گزاری ہی ۔بے شک ناشکری کفر ہے ، گمراہی اور بربادی۔
  • انسانی ذہن ذاتی تعصبات اور تکبرات سے کبھی رہانہیں ہوتا۔
  • تلاشِ حق میں بندہ خود ہی اپنے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
  • افراد پر افتاد اترتی ہے اور اقوام پر بھی۔ اگر وہ راست فکر ہوں تو وہ انہیں سنوار دیتی ہے وگرنہ برباد۔
  • خدا کی مخلوق سے مسلسل شکایت ، دراصل خدا سے گلہ ہے ۔
  • صداقت اور حق کی جسے تمنا ہو ، اپنے آپ کو اسے کبھی رعایت نہ دینی چاہئیے، دوسروں کو مگرہمیشہ۔
  • حق جسے عزیز ہو ، وہ خود سے اوپر اٹھتا اور اپنے آپ پر ترس کھانا چھوڑ دیتا ہے ۔
  • ایک کے بعد جسے دوسری منزل کی تمنا ہو ، انتقام کو اسے اپنے دل سے نکال پھینکنا چاہئیے۔ مہلت محدود ہے۔
  • جو بدلہ چکانے کی تمنا میں جیتا ہے ، وہ دلدل میں بسر کر دیتا ہے ۔
  • ابدیت سفر کو ہے ، مسافر کو نہیں ۔
  • سرکار(ص) کا ارشاد یہ ہے : جب سے آدمی اس دنیا میں آیا ہے ، اس نے عافیت سے بہتر کبھی کوئی دعا نہ مانگی۔
  • امید ہی مشعل ہے ، امید ہی اسلحہ اور امید ہی منزل۔
  • پاکستانی معیشت کو تین امراض لاحق ہیں ۔ طویل المیعاد منصوبہ بندی کا فقدان ، امرا کا ٹیکس ادا کرنے سے گریز اور بڑے پیمانے کی لوٹ مار۔
  • الحذر ، اس حکمت سے سو بار الحذر جس کی حدود خوف سے جا ملیں۔
  • اللہ نے عقل کو پیدا کیا تو اس پر ناز فرمایا، فخر کیا۔
  • نفس کو اللہ نے تخلیق کیا تو فرمایا کہ میں نے اپنا سب سے بڑا دشمن پیدا کر دیایعنی شیطان سے بڑھ کر ۔
  • خواہشات کے گرداب میں زندگی ، تعصبات کی پرورش، علم سے گریز، حکمت اور رواداری سے کنارہ کشی، جہل نہیں یہ جہلِ مرکب ہے ۔
  • خواجہ نظام الدین اولیا(رح) نے ارشاد کیا: کتنے بادشاہ گزرے ہیں ، نام بھی کسی کو یاد نہیں لیکن جنید(رح) و بایزید (رح)؟ یوں لگتا ہے کہ ابھی کل کی بات ہے ۔
  • آدمی کی خواہشات اجلی ہوں اور وہ ان کے تقاضوں کا ادراک کرے تو سرخرو کیا جاتا ہے ۔ میلی اور ادنیٰ ہوں تو ان کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔
  • "کشف المحجوب" ایک ایک حجاب کو اٹھاتی ہوئی، راہِ سلوک کے مسافر کورفعتوں پر لے جاتی ہے۔
  • کہا جاتا ہے کہ خدانخواستہ اسلامی علوم کا سارا خزانہ بھی اگر برباد ہو جائے تو غزالی کی احیائ العلوم کی مدد سے از سرنو تعمیر کیا جا سکتا ہے ۔
  • جس کا کوئی مرشد نہ ہو ، یہ کتاب﴿کشف المحجوب﴾ اس کی رہنما ہے۔
  • صوفی غور کرنا سکھاتے ہیں ۔ سوچنے اور سوال کرنے کی عادت ڈالتے ۔ زندگی کے بنیادی موضوعات پر مباحثے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔
  • شیخِ ہجویر(رح) نے لکھا ہے کہ امام ابو حنیفہ اہلِ علم ہی کے نہیں ، اہلِ سلوک کے بھی امام ہیں۔
  • امام شافعی(رح) کے باب میں غزالی(رح) نے یہ کہا : ان کے مسلک کا میں پیرو نہیں لیکن ان کے تقویٰ سے انکار کیسے کر سکتا ہوں۔
  • نواز شریف، آصف علی زرداری یا الطاف حسین۔ پاکستانی سیاستدانوں کا مقصدِ حیات اپنی خدمت ہے ، قوم کی نہیں ۔
  • غالب قانون ہوتا ہے ۔ اگر نہ ہو تو سب مغلوب، سب پریشان اور سب خسارے میں۔
  • اللہ کی آخری کتاب یہ کہتی ہے کہ جو غور نہیں کرتے، آدمی نہیں ، وہ جانور ہیں ، بدترین جانور!
  • دو چیزیں ادراک سے بالاتر ہیں۔ نفسِ انسانی کے فریب کتنے ہیں اور دوسرے یہ کہ رحمتہ اللعالمین(ص) کے مقامات کس قدر۔
  • معاشرے اتفاقِ رائے میں زندہ رہتے ہیں ۔ اس کا کوئی حصہ دوسرے پر غالب نہیں ہوتا۔ غالب قانون ہوتا ہے۔
  • آلوچے کے شگوفے اور کہکشائیں کھلانے والے پروردگار نے زندگی کو تنوع اور کشکمش میں پیدا کیا ۔
  • جنیدِ بغداد(رح) کو سیّد الطائفہ قرار دیا گیا۔ آنے والے زمانوں کے اہلِ علم اور اہلِ سلوک کے امام۔
  • جنیدِ بغداد(رح) نے ارشاد کیا :دنیا کو دل کے دروازے پر بٹھا رکھا ہے ۔ جس چیز کی ضرورت ہو ، ہاتھ بڑھا کر لے لیتے ۔ دل میں داخل ہونے کی دنیا کو اجازت نہیں۔
  • کامیابی کیا ہے؟قرآن ِ کریم میں انہماک ، حدیثِ رسول(ص) ، سیرت اور اصحاب(رض) کا طرزِ زندگی۔ مذاہب کا تقابلی مطالعہ اور تاریخ سے اکتسابِ نور۔
  • قائداعظم(رح) کے پاس کیا تھا؟ 1937ئ کے الیکشن کو میں قائد اعظم بظاہر ناکام رہے تھے مگر توکّل بہت تھا اور ایمان بہت۔
  • اقبال منفرد تھے اور تاریخِ انسانی کے کسی شاعر سے ان کا موازنہ موزوں نہ ہوگا۔ جہاں تک حسنِ بیاں کا تعلق ہے تو غالب ہی سب سے بڑے ہیں۔
  • حیاتِ اقبال کا سبق سادہ ہے ۔ قرآن سے رہنمائی ، رحمتہ اللعالمین(ص) سے سچی محبت، اللہ پرتوکل اورامت سے وابستگی ۔
  • ایک آدمی نہیں، فقط ایک ادارہ بھی نہیں، اقبال ایک حیرت کدہ ہے،تاریخ میں جس کی کوئی دوسری نظیر نہیں۔
  • علّامہ طبا طبائی نے لکھا ہے : سب سے بڑا عالم وہ ہے ، جو پوری تاریخ کے تناظر میں بات کرے۔
  • برصغیر میں اقبال ہی تھے، فقط اقبال ۔ اپنے عہد کے سارے فلسفے پر حاوی اور مشرق و مغرب کی تاریخ اور علوم کے شناور۔
  • تمام تاریخ ساز تبدیلوں میں ، 1946 اور 1970 میں نوجوانوں کا کردار فیصلہ کن تھا۔
  • ہر اچھا خیال خدا کی طرف سے ہوتا ہے ، وجدان پر وہ یقین کے ساتھ اترتا ہے ۔
  • ایک آدمی کے کردار کا اندازہ محاذ آرائی میں ہوتا ہے ۔
  • اظہار نہیں ، زندگی عمل ہے ۔
  • خدا نے زندگی کو اختلاف ، تنوع اور کشمکش میں پیدا کیا اور ہمیشہ وہ ایسی ہی رہے گی۔
  • سرکار(ص) نے ارشاد کیا تھا : آدمی کو جب اللہ ہدایت دینا چاہے تو اس کی آنکھ اپنے آپ پر کھول دیتا ہے ۔
  • ایک محلہ ، ایک گائوں ، ایک شہر اور ملک یا اللہ کی ساری زمین ، قیام امن کا تمام تر انحصار عدل پہ ہے ۔
  • زمانہ اور اس کے انداز بدلتے رہتے ہیں لیکن اصول کبھی نہیں۔
  • سرکار(ص) نے ارشاد کیا تھا اور کس شان سے ارشاد کیا تھا: دانا وہ ہے جو اپنے زمانے کو سمجھتا ہو۔
  • ہابیل اور قابیل سے لے کر آج تک آدمیت باہم متصادم رہی اور ہمیشہ رہے گی۔
  • اضافی اور عارضی نہیں ، عدل تو ایک دائمی قدر ہے ۔
  • مجھے لگتا ہے کہ آئندہ الیکشن میں ایک طوفان اٹھے گا اور ماضی کی یادگاروں کو بہا لے جائے گا۔
  • عسکری حکمرانی میں امن و امان بحال ہوجاتا اور معیشت نمو پذیر ہوتی ہے ۔ جو کچھ مگر تعمیر ہوتا ہے ، بالاخر برباد۔
  • قدرت کا اصول یہ ہے کہ بھول جانے ، ظلم کرنے اور بے حسی کا شکار ہوجانے والے معاشروں کو وہ صدمے پہنچاتی ہے کہ بیدار ہوں۔
  • قدرت کا اصول یہ ہے کہ بھول جانے ، ظلم کرنے اور بے حسی کا شکار ہوجانے والے معاشروں کو وہ صدمے پہنچاتی ہے کہ بیدار ہوں۔
You know you can Add an Article? click here

خوئے غلامی ، خوئے غلامی۔ غلام خود کو حالات کے حوالے کر دیتاہے۔ جدوجہدبندگانِ آزاد کرتے اور اپنی تقدیر خود لکھتے ہیں۔ اس گہرے خواب سے جاگ اٹھنا چاہئیے وگرنہ یہ حکمران طبقہ ، یہ شریف، چوہدری اور زرداری امکانات ہی برباد کردیں گے۔کھیت ہی اجاڑ دیں گے۔

compendium of dreams.....

in User Analysis
by Umer Kalel

bloochistan is in the line of fire

in User Analysis
by zafarmoeen

دورِ حاضر کا ابوذرؓ

in User Analysis
by inam rana

Column - Saqoot e Dhaka By Anser Mehmood

in User Analysis
by NonStopLeo

Why we feel that judiciary is not independent

in User Analysis
by Muskan Ahmed

خود ساختہ محسن

in User Analysis
by Shahjahan Khan

نثار صاحب خدا خدا کیجئے

in User Analysis
by dailyinsafnews

گڈ گورننس

in User Analysis
by NonStopLeo

Blochistan is bleeding

in User Analysis
by htimes30

ڈاکٹر عبد القدیر

in User Analysis
by Shahid Shah